Breaking News

پرائیویٹ سکولز کوئی آج کی بات نہیں یہ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھے۔ ماہر تعلیم چوہدری محمد شاہد


پرائیویٹ سکولز کوئی آج کی بات نہیں یہ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھے۔ ماہر تعلیم چوہدری محمد شاہد

پاکستان بننے سے پہلے سے لیکر 1972 تک اکثر سکول اور کالجز پرائیویٹ ہی تھے اور گورنمنٹ ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو شکریہ کے ساتھ ناقابل واپسی گرانٹ بھی دیا کرتی تھی۔ چوہدری محمد شاہد

پاکستان بننے سے پہلے سے لیکر 1972 تک اکثر سکول اور کالجز پرائیویٹ ہی تھے اور گورنمنٹ ان پرائیویٹ  تعلیمی اداروں کو شکریہ کے ساتھ ناقابل واپسی گرانٹ بھی دیا کرتی تھی کہ وہ قوم کو تعلیم دینے میں گورنمنٹ کو سپورٹ کررہے ہیں۔ ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نتائج اس وقت بھی انتہائی شاندار ہوا کرتے تھے۔

1972
میں بھٹو صاحب نے ان اداروں کو بھی نیشنلائزڈ  کر لیا تھا۔ 5 چھ سال بعد اس غلطی کے ازالے کے لئے دوبارہ سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دی گئ ورنہ 50 فیصد بچوں کو تعلیم دینے کے لئے تعلیمی ادارے موجود ہی نہ ہوتے۔ گورنمنٹ سکولوں میں ایک بچے پر قومی خزانے سے تقریبا 8 ہزار روپے ماہانہ خرچہ ہوتا ہے اور پھر نتائج آپ کے سامنے ہیں جبکہ دوسری طرف تقریبا 98 فیصد پرائیویٹ سکولز صرف 500 روپے ماہانہ سے 5000 روپے ماہانہ فیس لے رہے ہیں اور مسلسل انتہائی شاندار نتائج سب کے سامنے ہیں۔

 تجویز یہ ہے کہ حکومت وقت تمام گورنمنٹ سکولز کو پرائیوٹائز کر دے اور تقریبا 4 ہزار روپے فی بچہ بچاتے ہوئے پرائیویٹ سیکٹر کو  قومی خزانے سے صرف 4 ہزار روپے فی طالب علم ادا کرے تو اس سے نہ صرف قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں بلکہ 2 کروڑ ساٹھ لاکھ آوٹ آف سکول بچوں کی تعلیم و تربیت کا بھی خاطر خواہ بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا کر لیا جائے تو یہ وسیع تر قومی مفاد میں ہو گااس طرح پاکستان شرح خواندگی کے اہداف بھی  بروقت حاصل کر پائے گا اور اقوام متحدہ کی طرف سے دی گئی شرح خواندگی کے حصول کی ڈیڈ لائن سے پہلے پہلے اہداف کا حصول ممکن ہو سکے گا۔


From before the formation of Pakistan until 1972, most of the schools and colleges were private and the government used to give non-refundable grants to these private educational institutions with gratitude for supporting the government in educating the nation. The results of these private educational institutions were still excellent.

In 1972, Bhutto had nationalized these institutions as well. 5 Six years later, to rectify this mistake, private educational institutions were allowed to open again, otherwise there would be no educational institutions to educate 50% of the children. In government schools, a child spends about Rs 8,000 per month from the national exchequer and then the results are in front of you. On the other hand, about 98% of private schools are charging only Rs 500 to Rs 5,000 per month and consistently excellent results.

The proposal is that the government should privatize all government schools in time and save about Rs 4,000 per child and pay only Rs 4,000 per student to the private sector from the national exchequer so that not only national resources can be saved but also 2. Significant arrangements can also be made for the education and training of 16 million out-of-school children. If this is done, it will be in the wider national interest. In this way, Pakistan will be able to achieve its literacy targets in a timely manner and achieve the first targets before the deadline set by the United Nations.

No comments