ہوٹل روزویلٹ خریدنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔
ہوٹل روزویلٹ خریدنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
اپنی خواہش کا اظہار کر دیا۔
ایم ڈی پی آئی اے انویسٹمنٹ نے قانون سازوں کو آگاہ
کیا ہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں مشہور ہوٹل کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اب
بھی وہ اسے خریدنے کے خواہاں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہوٹل روزویلٹ
خریدنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایم ڈی پی آئی اے انویسٹمنٹ نے قانون سازوں
کو آگاہ کیا ہے کہ ٹرمپ نے
ماضی میں مشہور ہوٹل کے
حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور اب بھی وہ اسے خریدنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں
نے قانون سازوں کو ساتھ ہی ساتھ اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ حکومت اس ہوٹل کو کسی صورت بیچنے کا فیصلہ
نہیں کر رہی۔
خیال رہے کہ کچھ عرصے سے تاثر دیا جا رہا تھا کہ شاید حکومت اس ہوٹل کی بیچنے لگی ہے۔ تاہم اس حوالےسے آج امریکہ میں ہوٹل روزویلٹ کینجکاری روکنے کی درخواست نمٹا دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی
ہے جس میں ڈپٹی اٹآرنی جنرل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نہ ہوٹل بیچ
رہے ہیں نہ اس کی نجکاری کر
رہے ہیں، حکومت ایڈوائزر مقرر کر رہی ہے کہ ہوٹل کو کیسے مستقبل میں منافع بخش
بنایا جائے، ڈپٹی اٹارنی جنرل کے جواب کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سماعت کرتے
ہوئے وفاق کے بیان کے بعد درخواست نمٹا دی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ روز ویلٹ ہوٹل میں جوائنٹ وینچر تو نہیں ہو
رہا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایسا
کچھ نہیں ہو رہا، یہ سب اخباری خبریں ہیں۔ سماعت کرتے
ہوئے جسٹس عامر فاروق کی جانب سے کہا گیا ہے کہ قومی اثاثے کو ایسے ہی نہیں پھینک
دینا چاہیئے، جیسے عمومی طور پر ہم کرتے ہیں، آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ فزیبلٹی صرف
منافع بخش ہونے سے متعلق تیار ہو رہی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ زلفی بخاری اپنے فرنٹ
مین کے ذریعے اس ہوٹل کو
خریدنا چاہتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہاں ٹیلنٹ نہیں کہ غیر
ملکی اسپیشلسٹ ہائر کر کے خدمات لے رہے ہیں؟ ایسے نہ کریں یہ قومی اثاثہ ہے، کسی
کا ذاتی نہیں، نہ کسی کا ذاتی مفاد ہونا چاہیے۔ تاہم عدالت نے درخواست کو نمٹاتے ہوئے
درخواست گزار کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آئندہ اس طرح کا کچھ ہو تو آپ دوبارہ رٹ دائر
کریں۔

No comments