Breaking News

گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے نوجوان کا لڑکی کے والد نے برا حال کر دیا۔



گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے نوجوان کا لڑکی کے والد نے برا حال کر دیا۔

چونیاں میں والد نے لڑکی سے مبینہ طور پر ملنے والے نوجوان کے بال ،بھونیں اور مونچھیں مونڈ دیں۔

والد نے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے شبے میں نوجوان کے بال بھنویں اور مونچھیں مونڈ دیں۔تفصیلات کے مطابق چونیاں میں ایک عجیب و غریب  واقعہ  پیش آیا ہے جہاں لڑکی سے مبینہ طور پر ملنے والے نوجوان کے بال ،بھونیں اور مونچھیں مونڈ دی گئیں۔بتایا گیا ہے کہ والد نے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے نوجوان کا برا حال کر دیا۔

چونیاں میں والد نے لڑکی سے مبینہ طور پر ملنے والے نوجوان کے بال ،بھونیں اور مونچھیں مونڈ دیں۔لڑکی کے والد نے نوجوان پر لڑکی کے ساتھ زیادتی کا الزام لگایا ہے جس کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ نوجوان نے گھر میں گھس کر بیٹی سے زیادتی کوشش کی۔

پولیس نے لڑکے سمیت تشدد کرنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس سے قبل قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے شہر جڑانوالہ میں مبینہ طور پر ایک خاتون نے جنسی زیادتی کی کوشش کرنے والے شخص کا عضو تناسل کاٹ دیا تھا۔

ایف آئی آر لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ سٹی جڑانولہ میں درج کی گئی۔لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ اس روز دن کے وقت جب وہ سودا سلف لانے شہر گئےتو واپسی پر ان کے گھر کے باہر متعدد افراد جمع تھے اور جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو ان بیٹی خون میں لت پت پڑی تھی اوررو رہی تھی۔ ایف آئی آر میں لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ملزم گھر زبردستی داخل ہوا تو وہ چھری سے مسلح تھا اور جب اس نے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر جنسی زیادتی کی کوشش کی تو انہوں نے موقع دیکھ کر اس سے چھری چھینی اور اس کا عضو تناسل کاٹ دیا جس کے بعد وہ شور مچاتا ہوا بھاگ گیا۔

لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں۔یہ لڑکا طویل عرصہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا تھا۔ لڑکی کےو الد کے مطابق وہ متعدد مرتبہ لڑکے کے گھر والوں سے بھی شکایت کر چکے تھے مگر اس کا بھی کوئی اثر نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے مطالبے سے نہ تو میری بیٹی اور نہ ہی میں ایک قدم پیچھے ہٹوں گا۔چاہے کچھ بھی ہو جائے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اگر ملزم پر الزام ثابت ہو جاتا ہے تو اسے 7 سال لے کر عمر قید اور جرمانے کی سزائیں ہو سکتیں ہیں۔

No comments